ا جو دھیا،16؍نومبر (ایس اونیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) بابری مسجد۔ رام جنم بھومی کے مسئلے کے سمجھوتے کے سلسلے میں آج ہندو رہنما شری شری روی شنکر نے رام جنم بھومی ٹرسٹ کے صدر اور منرام چھاؤنی کے مہنت نرتیہ گوپال داس سے ملاقات کی۔مندر مسجد تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش میں ثالث کا کردار اداکر رہے شری شری روی شنکر نے نرتیہ گوپال داس سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے کہا کہ یہاں ایک نیا باب شروع ہونے جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ خوشگوار ماحول میں بات چیت کے ذریعہ اس کاحل نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں اور کچھ دیگر سادھو سنتوں اور مسلم رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ایک امن پسند ملک ہے۔ یہاں ہر مسئلے کا حل باہمی مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکتاہے۔اپنے اجودھیا دورہ کے دوران شری شری نے بابری مسجد کے اہم فریق اقبال انصاری سے بھی ملاقات کی۔ تاہم یہ ملاقات صرف پانچ منٹوں تک ہی چلی۔ میٹنگ کے بعداقبال انصاری نے کہا کہ یہ بات چیت آئندہ بھی جاری رہے گی۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے شری شری کو ہندو اور مسلم اتحاد کی بھی اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ہی سماج کے لوگ کافی خوشی سے رہتے ہیں ، دونوں کی رائے کافی اچھی ہیں،مگرلیڈران گڑبڑ ہیں۔ادھر آل انڈیا اکھاڑا پریشد کے چیئرمین نریندر گیری نے ارٹ افلونگ کیشری شری روی شنکر کی اجودھیا مسئلے کے تئیں کاوش کو غیر ضروری بتایا۔ آج وہ وزیراعلیٰ سے ملنے آئے تھے۔ ا نہوں نے مسٹر یو گی کے ساتھ بابری مسجد۔رام مندر اور2019 میں الہ آبادمیں منعقد ہونے والے کمبھ میلے پر غور کیا۔وزیر علیٰ سے ملاقات کے بعد مسٹر نریندر گری نے صحافیوں کو بتایا کہ وشو ہندو پریشد اور سنت برادری مندر تعمیر کے لئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی صورت میں شری شری کی مداخلت ٹھیک نہیں ہے۔مسٹر نریندر گری نے کہا کہ شری شری کو اپنی غیر سرکاری تنظیم کو چلانے پر دھیان دینا چاہے۔